یہ پانچ کام کرنے والی عورت کا چہرہ مرتے وقت چاند کی طرح چمکتا ہے

کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ خوش نصیب عورتوں کا چہرہ موت کے وقت ایسے چمکتا ہے جیسے چودہویں کا چاند؟

یہ کوئی شاعرانہ بات نہیں، بلکہ ایک ایمان افروز حقیقت ہے جس کا ذکر حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ نے ایک مشہور واقعے میں کیا ہے۔ آج ہم آپ کو وہ پانچ ایسے اعمال بتائیں گے جو حضرت امام محمد باقرؓ نے ارشاد فرمائے، اور جنہیں اپنانے والی عورت کا چہرہ موت کے بعد بھی روشن رہتا ہے۔ یہ آرٹیکل آخر تک ضرور پڑھیے — یہ صرف ایک پوسٹ نہیں، بلکہ آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔

مولانا رومیؒ اور اس عجیب واقعے کا تعارف

روایت میں آتا ہے کہ ایک دن ایک عورت حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی:

“حضرت! میں ابھی ایک مردہ عورت کے پاس سے ہو کر آ رہی ہوں۔ اس عورت کا چہرہ رات کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ آخر اس میں کیا راز ہے؟”

مولانا رومیؒ نے بغیر سوچے فرمایا: “اس عورت نے یقیناً حضرت امام باقرؓ کے بتائے ہوئے پانچ اعمال پر عمل کیا ہوگا۔” یہی پانچ اعمال آج ہمارا موضوع ہیں۔ آئیے ایک ایک کر کے سمجھتے ہیں۔

عورت کے وہ 5 اعمال جو مرتے وقت چہرہ چاند کی طرح روشن کر دیتے ہیں

حضرت امام محمد باقرؓ کے ارشاد کے مطابق، جس عورت میں یہ پانچ خوبیاں ہوں، اس کا چہرہ موت کے وقت روشن ہو جاتا ہے، اور یہ روشنی اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو چکا ہے۔

1. نیک اور دیندار شوہر کا انتخاب

پہلا عمل یہ ہے کہ عورت اپنی شادی کے لیے ایک نیک، متقی اور پرہیزگار انسان کا انتخاب کرے۔ یہ انتخاب اس سوچ کے ساتھ ہو کہ:

  • میرا شریکِ حیات نمازی ہوگا
  • وہ مجھے دین کی طرف بلائے گا
  • اس کی صحبت میں میری اپنی اصلاح ہوگی
  • اس کی دعائیں قبول ہوں گی، جو میرے لیے بھی برکت کا باعث بنیں گی

یاد رکھیے، ایک نیک شوہر صرف دنیاوی ساتھی نہیں ہوتا، بلکہ آخرت میں بھی نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس لیے شادی کے فیصلے میں ظاہری شان و شوکت سے زیادہ کردار اور دینداری کو ترجیح دیں۔

حضرت علیؓ کی نصیحت: کن مردوں سے شادی نہ کریں؟

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس ایک عورت آئی اور پوچھا: “حضرت! کس قسم کا انسان عورت کی زندگی برباد کر دیتا ہے؟” آپؓ نے تین قسم کے مردوں سے بچنے کی نصیحت فرمائی:

پہلا: وہ شخص جو غیر محرم عورت کو گندی نگاہ سے دیکھتا ہو۔ جس کی آنکھوں میں شرم و حیا اور غیرت نہ ہو، وہ آپ کی شرم و حیا بھی ختم کر دے گا۔

دوسرا: جھوٹا انسان۔ جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ جڑنے والے بھی اس لعنت میں شامل ہو جاتے ہیں۔

تیسرا: متکبر شخص جو خود کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہو۔ تکبر اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے، اور ایسا انسان اپنی بیوی کو بھی حقیر سمجھے گا۔

شادی سے پہلے مرد کی پہچان کا طریقہ

حضرت علیؓ نے فرمایا کہ شادی سے پہلے اپنے بھائی، باپ یا کسی قابلِ اعتماد محرم کو اس مرد کی مجلس میں بھیجیں۔ وہ غور سے دیکھیں کہ:

  • کیا وہ دوسروں کو اپنے سے کم تر تو نہیں سمجھتا؟
  • کیا اس کی گفتگو میں جھوٹ تو شامل نہیں؟
  • کیا اس کی نگاہیں محفوظ ہیں؟

اگر ان تینوں میں سے کوئی بھی خامی نظر آئے، تو ایسے رشتے سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

2. پنج وقتہ نماز اور وضو کی پابندی

دوسرا عمل پنج وقتہ نماز کے لیے کیا گیا وضو ہے۔ حضرت امام باقرؓ فرماتے ہیں کہ نماز کا وضو عورت کے چہرے کو دنیا میں بھی روشن رکھتا ہے اور آخرت میں بھی۔

قیامت کے دن جب ہر طرف “نفسی نفسی” کی آوازیں بلند ہوں گی، اور ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا، اس وقت بھی نمازی عورت کا چہرہ نور سے دمک رہا ہوگا۔ دوسری عورتیں حیرت سے پوچھیں گی: “یہ دنیا میں کون سا عمل کرتی تھی جس کی روشنی آج بھی قائم ہے؟”

اسلام کی حقیقی زندگی میں ڈھل جانے والی عورت — جو نمازی ہو، قرآن پڑھتی ہو، حق بات کرتی ہو، اور دوسروں سے محبت سے پیش آتی ہو — اللہ تعالیٰ اسے فوراً جنت کا پروانہ عطا فرما دیتا ہے۔

3. پردے کی پابندی

تیسرا عمل پردہ ہے۔ پردے میں رہنے والی عورت کا چہرہ بھی مرتے وقت چاند کی طرح چمکتا ہے۔ پردے کا مطلب صرف چادر یا برقع نہیں، بلکہ:

  • نگاہ کا پردہ — نامحرم کو دیکھنے سے بچنا
  • زبان کا پردہ — غیر مردوں سے بے تکلف گفتگو سے اجتناب
  • کردار کا پردہ — حیادار طرزِ زندگی
  • ظاہری پردہ — جسم اور زینت کو نامحرموں سے چھپانا

پردہ عورت کی عزت و وقار کا حفاظتی قلعہ ہے۔ جو عورت اس قلعے میں محفوظ رہتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے پر ایک خاص نور رکھ دیتا ہے جو موت کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔

4. ہر کام بسم اللہ سے شروع کرنا

چوتھا عمل ہے ہر کام کا آغاز “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” سے کرنا۔ بسم اللہ پڑھنے والی عورت کا چہرہ بھی مرتے وقت روشن ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ وہ عمل ہے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کو نہایت محبوب ہے۔

روزمرہ کی زندگی میں بسم اللہ کہاں کہاں پڑھیں؟

  • صبح بستر سے اٹھتے وقت
  • کھانا پکانے سے پہلے
  • کھانا کھانے سے قبل
  • گھر سے باہر نکلتے وقت
  • گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے
  • کوئی بھی نیا کام شروع کرنے سے پہلے
  • سونے سے قبل

ایک چھوٹا سا کلمہ ہر کام میں برکت بھی ڈالتا ہے، شیطان سے حفاظت بھی کرتا ہے، اور آخرت میں چہرے کا نور بھی بنتا ہے۔

5. وہ اعمال جو اللہ کا محبوب بنا دیں

پانچواں عمل وہ ہے جو انسان کو اللہ کا پیارا بنا دے۔ یعنی کوئی ایک ایسا خاص عمل جسے عورت اپنی زندگی میں پابندی سے کرے۔ یہ عمل کوئی بھی ہو سکتا ہے، مثلاً:

  • تہجد کی پابندی — رات کے آخری حصے میں اللہ سے راز و نیاز
  • صدقہ و خیرات — چھپا کر مستحقین کی مدد کرنا
  • تلاوتِ قرآن — روزانہ کم از کم ایک پارہ یا کچھ آیات
  • والدین کی خدمت — خاص طور پر بوڑھے والدین کی دیکھ بھال
  • یتیموں اور بیواؤں کی کفالت
  • درود شریف کا ورد — کثرت سے درود پاک پڑھنا
  • پڑوسیوں سے حسنِ سلوک

یہ ایک ایسا عمل ہو جو دل سے، اخلاص کے ساتھ، اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ ایسا عمل بندی کو اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے، اور محبوب کا چہرہ تو روشن ہی ہوتا ہے۔

خلاصہ: وہ پانچ اعمال ایک نظر میں

اوپر بیان کیے گئے پانچ اعمال نہ صرف دنیاوی زندگی کو خوشگوار بناتے ہیں بلکہ آخرت کی کامیابی کی ضمانت بھی ہیں:

  1. نیک شوہر کا انتخاب — جو دین کی طرف لے جائے
  2. پنج وقتہ نماز اور وضو — چہرے کا دائمی نور
  3. پردے کی پابندی — عزت و وقار کا تحفظ
  4. بسم اللہ کا اہتمام — ہر کام میں برکت
  5. اللہ کو محبوب بنا دینے والا عمل — اخلاص کے ساتھ کوئی خاص نیکی

یہ پانچ اعمال کوئی بہت مشکل کام نہیں ہیں۔ صرف نیت اور پابندی درکار ہے۔ آج ہی ان میں سے کسی ایک عمل کا آغاز کر دیں، اور دیکھیں کہ کیسے اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی میں نور بھر دیتا ہے۔

📿 ایک گزارش: اگر یہ مضمون آپ کے دل کو لگا ہو، تو اسے اپنی ماں، بہن، بیٹی اور سہیلیوں تک ضرور پہنچائیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے ایک share کی وجہ سے کسی کا چہرہ مرتے وقت چاند کی طرح روشن ہو جائے، اور اس کا اجر آپ کو بھی ملے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

کیا یہ پانچ اعمال صرف عورتوں کے لیے ہیں؟

اگرچہ یہ نصیحت خاص طور پر عورتوں کے حوالے سے کی گئی ہے، لیکن نماز، پردہ (مردوں کا اپنا پردہ)، بسم اللہ، اور اللہ کا محبوب بنانے والے اعمال — یہ سب مردوں کے لیے بھی برابر اہم ہیں۔ صرف “نیک شریکِ حیات کا انتخاب” مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں نصیحت ہے۔

کیا چہرے کا چمکنا واقعی نشانی ہے؟

اسلامی روایات میں موت کے وقت چہرے پر سکون، روشنی اور خوشبو کا آنا اللہ کی رضا کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات کئی واقعات اور حدیثوں میں بیان ہوئی ہے، مگر اس کا یقینی فیصلہ صرف اللہ ہی کر سکتا ہے۔

اگر میں نے ابھی تک یہ اعمال شروع نہیں کیے تو کیا اب بھی موقع ہے؟

بالکل! اللہ تعالیٰ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔ توبہ اور ایک نئی شروعات کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔ آج ہی ایک عمل سے آغاز کریں، باقی اللہ آسان فرما دے گا۔

کیا شادی شدہ عورت اپنے شوہر کو “نیک” کیسے بنا سکتی ہے اگر وہ پہلے ہی شادی کر چکی ہے؟

نیک بیوی اپنے کردار، صبر، حکمت اور دعا سے شوہر کی اصلاح میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خود نماز کی پابند بنیں، گھر میں قرآن کی تلاوت رکھیں، اور شوہر کے لیے دل سے دعا مانگیں۔ ان شاء اللہ تبدیلی آئے گی۔

پردہ کی شرعی حد کیا ہے؟

شرعی پردے کا مطلب ہے کہ نامحرم مردوں کے سامنے چہرہ، ہاتھ پاؤں سمیت پورا جسم ڈھکا ہو، آواز میں نزاکت نہ ہو، اور غیر ضروری اختلاط سے بچا جائے۔ تفصیلی مسائل کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

نوٹ: یہ مضمون مشہور روایات اور علماء کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ کسی بھی شرعی مسئلے کے لیے براہِ کرم مستند علمائے کرام سے رجوع فرمائیں۔ یہ مضمون عام آگاہی اور تذکیر کے لیے ہے۔

خواب میں قبرستان دیکھنے کی 7 تعبیریں

موت سے چند دن پہلے انسان کو یہ ایک خواب ضرور آتا ہے